KUMRAT VALLEY & DIR KOHISTAN: VILLAGES, LAKES & CULTUREKumrat Valley - Nature’s Paradise Kumrat Valley Travel Guide: Hotels, Routes and Jahaz Banda

Latest

KUMRAT VALLEY & DIR KOHISTAN: VILLAGES, LAKES & CULTURE

دیر کوہستان: قدرت کا حسین شاہکار

KUMRAT VALLEY: EXPLORE THE UNTOUCHED PARADISE OF DIR KOHISTAN

Dir Kohistan, located north of Dir Khas in Khyber Pakhtunkhwa, is a beautiful mountain region known for its green landscapes, clear water and warm hospitality. The Panjkora River flows through the valley and is the lifeline of its villages, from Sheringal and Patrak to Biar, Bri Kot, Kalkot and Thal, the capital of Dir Kohistan. Nearby you will find Jandrai Valley with its local museum, the high-altitude pastures of Jaz Banda, and the scenic Katora Lake. To the north of Thal lies the famous Kumrat Valley, a tourist paradise with a forest rest house and tent hotels in summer. This post (originally written in Urdu by Dr. Hazrat Bilal) introduces the geography, villages, culture and top attractions of Dir Kohistan and Kumrat Valley.
A Journey to Kumrat Valley – Nature’s Untouched Masterpiece

تحریر: ڈاکٹر حضرت بلال
دیر کوہستان، جو دیر خاص کے شمال میں واقع ہے، اللہ تعالیٰ کے انمول تحفوں سے مالا مال ایک دلکش وادی ہے۔ یہ خطہ اپنی بے مثال خوبصورتی، سرسبز مناظر اور دلکشی کی وجہ سے منفرد مقام رکھتا ہے۔ دریائے پنجکوڑا (پنجگوڑہ) اس وادی کی رگوں میں دوڑتا زندگی کا حسین دھارا ہے، جسے مقامی لوگ دریائے پنجکوڑہکے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ دریا نہ صرف وادی کی سرسبزی اور شادابی کا راز ہے بلکہ یہاں کے رہنے والوں کے لیے زندگی کا بنیادی ذریعہ بھی ہے۔
جغرافیائی محل وقوع اور اہمیت
دیر کوہستان کے شمال میں چترال، مشرق میں سوات، جبکہ جنوب اور مغرب میں دیر اور چترال کے اضلاع واقع ہیں۔ اس وادی کا مرکزی قصبہ شیرنگل ہے، جو دریائے پنجگورہ کے کنارے آباد ہے۔ شیرنگل میں شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی ایک عرصے سے علاقے کی تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ شیرنگل سے منسلک علاقے ڈوکدرہ میں غیر کوہستانی اقوام بھی آباد ہیں، جو اس خطے کے ثقافتی تنوع کو اجاگر کرتے ہیں۔

دریائے پنجکوڑہکے کنارے آباد خوبصورت بستیاں

پاتراک (راجکوٹ): شیرنگل سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ قدیم گاؤں اپنے خوبصورت مناظر اور روايتی بازار کے لیے مشہور ہے۔ 
یہاں روزمرہ زندگی کی تمام ضروریات آسانی سے دستیاب ہیں۔

بیاڑ: پاتراک سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ گاؤں چھتربٹور، بترور، گینورہ، سنڈروجی اور ملا خیل قبائل کا مسکن ہے۔ بری کوٹ: بیاڑ سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ گاؤں دریا کے بائیں جانب آباد ہے۔ یہاں کچھیر خیل، کاٹنی اور آخونزادگان قبائل رہتے ہیں۔

 بری کوٹ کے قریب بیرا کافر کے قلعے کے آثار آج بھی موجود ہیں، جن کا ذکر 1902 میں "گارڈ فریر" نے اپنے مقالے میں کیا تھا۔

کلکوٹ: بری کوٹ سے 5 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ گاؤں ہائر سیکنڈری اسکول، تھانہ، سب ڈویژنل ایجوکیشن آفس اور ایک عالی شان مسجد کی وجہ سے ممتاز ہے۔

تھل: دیر کوہستان کا دارالحکومت کلکوٹ سے سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں "تھل" دیر کوہستان کا دارالحکومت ہے۔ یہ گاؤں دریا کے دائیں جانب واقع ہے، جبکہ بائیں جانب لاموتی گاؤں آباد ہے۔ لاموتی میں بوائز اور گرلز پرائمری اسکولز کے علاوہ ایک شاندار مسجد بھی موجود ہے، جو جدید و قدیم طرز تعمیر کا حسین امتزاج ہے۔

وادی جندرئی اور جاز بانڈہ کا دلکش منظر
لاموتی گاؤں کے جنوب مشرق میں چار کلومیٹر کے فاصلے پر وادی جندرئی واقع ہے، جہاں ایک منفرد "عجائب گھر" قائم ہے۔ اس عجائب گھر کا مقصد مقامی ثقافت کو محفوظ بنانا ہے۔ جندرئی کے شمال میں جاز بانڈہ کی حسین چراگاہ ہے، جو اپنے بلند مقام، تازہ ہواوں اور پھولوں کی مہک سے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ جاز بانڈہ کے مشرق میں کٹورا جھیل واقع ہے، جو اپنے دلکش مناظر کی وجہ سے مشہور ہے۔

 کمراٹ

 سیاحوں کی جنت تھل گاؤں کے شمال میں کمرات کی خوبصورت وادی واقع ہے، جو 35 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں فارسٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایک جدید ریسٹ ہاؤس تعمیر کیا ہے، جہاں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں یہاں خیمہ ہوٹلز قائم کیے جاتے ہیں، جہاں سیاحوں کے لیے قیام و طعام کا بندوبست ہوتا ہے۔ دیر کوہستان کے لوگ اور ثقافت دیر کوہستان کے لوگ مہمان نواز، جفاکش اور محنتی ہیں۔ یہاں کے بیشتر لوگ کاشتکار ہیں، جبکہ بعض سرکاری ملازمتوں سے وابستہ ہیں۔ جنگلات کی رائلٹی، جڑی بوٹیاں، مشروم اور گلابانی یہاں کے مشہور پیشے ہیں۔
 اختتامیہ دیر کوہستان قدرت کا ایک نایاب تحفہ ہے، جہاں ہر طرف سرسبز مناظر، بلند پہاڑ اور صاف شفاف پانی کی روانی انسان کو فطرت کے قریب کر دیتی ہے۔ یہ خطہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک پرکشش مقام ہے۔