FLOOD AFFECTED SCHOOL BARIKOT DIR KUMRAT VALLEYKumrat Valley - Nature’s Paradise Kumrat Valley Pakistan - Nature’s Paradise

Latest

FLOOD AFFECTED SCHOOL BARIKOT DIR KUMRAT VALLEY

سیلاب کی نذر ہونے والا مادری علمی پرائمری سکول بریکوٹ، دیر بالا

Flood affected GPS School Barikot Kumrat Valley

تحریر: فضل خالق

دیر بالا کے پہاڑی علاقے بریکوٹ میں قائم مادری علمی گورنمنٹ پرائمری سکول صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ علم، قربانی اور سماجی شعور کی ایک روشن تاریخ کا امین رہا ہے۔ افسوس کہ یہ تاریخی درسگاہ اگست 2022 کے تباہ کن سیلاب کی نذر ہو کر ماضی کا حصہ بن گئی، اور آج اس کے طلبہ ایک بار پھر تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔

مادری علمی گورنمنٹ پرائمری سکول بریکوٹ کا آغاز 1961ء میں ایک سادہ سے حجرے سے ہوا۔ نوابِ دیر کے دورِ حکومت میں صاحبزادہ صاحب آف میدان کو بطور معلم لاموتی بھیجا گیا تھا، مگر وہاں کے عوام نے انگریزی تعلیم حاصل کرنے سے معذرت کرتے ہوئے انہیں واپس بھیج دیا۔ واپسی کے سفر کے دوران وہ شام کے وقت جامع مسجد بریکوٹ پہنچے، جہاں نماز کے بعد مقامی روایات کے مطابق ان سے خیریت دریافت کی گئی۔ جمعہ خان ملک المعروف سوات مولا اور مامو مولوی عبدالحی المعروف بابا جی نے ان کی داستان سنی اور تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے انہیں بریکوٹ میں بچوں کو پڑھانے کی پیشکش کی، جسے صاحبزادہ صاحب نے قبول کر لیا۔

چند ہی دنوں بعد بریکوٹ میں باقاعدہ تعلیمی سلسلے کا آغاز ہوا۔ ابتدا میں چند بچوں کو جماعت دوم میں داخل کیا گیا، جن میں مامو بہادر سید، مامو حاجی شیر بہادر، محمد حیدر اور محمد عمر شامل تھے، جو آج بھی حیات ہیں۔ 1962ء میں کوہستان کے علاقے میں تعلیمی ترقی کے لیے چھ پرائمری سکولوں کی منظوری دی گئی، اور یوں 1964ء میں دو کمروں پر مشتمل گورنمنٹ پرائمری سکول بریکوٹ کی عمارت وجود میں آئی۔

یہ ادارہ نہ صرف تعلیم کا مرکز رہا بلکہ قربانی اور ایثار کی روشن مثال بھی قائم کرتا رہا۔ استادِ محترم نصیب اللہ (مرحوم) نے اپنے شاگرد گل باچا، جو جمعہ خان مرحوم کا بیٹا تھا، کو دریائے پنجکوڑہ کی بے رحم موجوں سے بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کی۔ یہ واقعہ اس ادارے کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جانے کے قابل ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ اس مادری علمی نے علم کی روشنی سے کئی زندگیاں منور کیں۔ یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ آج اساتذہ، ڈاکٹرز اور دیگر سرکاری و نجی محکموں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ 25 اگست 2022ء تک اس ادارے میں مجموعی طور پر 2450 بچے داخل ہو چکے تھے، جو اس کی تعلیمی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

بدقسمتی سے 26 اور 27 اگست 2022ء کی درمیانی شب آنے والے شدید سیلاب نے دریائے پنجکوڑہ کو قہر میں بدل دیا، اور یہ تاریخی سکول اپنی عمارت سمیت دریا برد ہو گیا۔ یوں ایک بار پھر مادری علمی کسی حجرے کی تلاش میں رہ گیا، جبکہ اس کے بچے آج بھی دریا کے اُس پار محصور ہو کر کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، متعلقہ محکمے اور صاحبِ ثروت افراد آگے بڑھیں اور اس تاریخی تعلیمی ادارے کی بحالی کو یقینی بنائیں، تاکہ بریکوٹ کے بچوں کا مستقبل تاریکی کے بجائے ایک بار پھر علم کی روشنی سے منور ہو سکے۔