THE SUCCESSION CRISIS IN THE STATE OF DIR AFTER NAWAB AURANGZEB KHAN (1925)Kumrat Valley - Nature’s Paradise Kumrat Valley Pakistan - Nature’s Paradise

Latest

THE SUCCESSION CRISIS IN THE STATE OF DIR AFTER NAWAB AURANGZEB KHAN (1925)

ریاستِ دیر کا نازک لمحہ: نواب اورنگزیب خان کے بعد
THE SUCCESSION CRISIS IN THE STATE OF DIR AFTER NAWAB AURANGZEB KHAN (1925)
فروری 1925 میں نوابِ دیر اورنگزیب خان، المعروف بادشاہ خان، کی وفات کے ساتھ ہی ریاستِ دیر ایک ایسے نازک دور میں داخل ہو گئی جس کے اثرات صرف دربار تک محدود نہ رہے بلکہ قبائلی سیاست، علاقائی طاقتوں اور برطانوی انتظامیہ تک پھیل گئے۔ یہ محض ایک حکمران کی موت نہیں تھی بلکہ اقتدار، وفاداری اور مفادات کی ایک خاموش کشمکش کا آغاز تھا۔
نواب کے انتقال سے قبل ہی ان کی صحت بگڑنے لگی تھی اور پس منظر میں جانشینی کی سرگوشیاں تیز ہو چکی تھیں۔ وفات کے وقت بڑے صاحبزادے خان بہادر شاہ جہاں خان موقع پر موجود تھے اور انہوں نے غیر معمولی مستعدی کے ساتھ حالات کو قابو میں لینے کی کوشش کی۔ تدفین کے فوراً بعد انہوں نے قبائلی عمائدین کی حمایت حاصل کرنے پر توجہ دی، جس میں انہیں غیر متوقع طور پر کامیابی ملی۔ زیادہ تر سرداروں نے انہیں اس شرط پر حکمران تسلیم کر لیا کہ وہ پختون روایت کے مطابق حکومت کریں گے اور سخت گیری سے اجتناب برتیں گے۔
دوسری طرف چھوٹے صاحبزادے عالم زیب خان کا دعویٰ بھی کمزور نہ تھا۔ انہیں جندول، خانِ خار اور بعض دیگر عناصر کی تائید حاصل تھی، جبکہ میاں گل سوات کا نام بھی پس پردہ گفتگو میں شامل رہا۔ تاہم برطانوی سیاسی ایجنٹ نے ابتدا ہی میں واضح کر دیا کہ حکومت نہ تو ریاست کی تقسیم کی حامی ہے اور نہ ہی طاقت کے زور پر اقتدار کی تبدیلی کو قبول کرے گی۔
ان دنوں جرگوں کا سلسلہ، پیغامات کی ترسیل اور قبائلی وفاداریوں کی تبدیلی معمول بن چکی تھی۔ کچھ قبائل آخری لمحے تک تذبذب کا شکار رہے، جبکہ کچھ نے حالات کا رخ دیکھ کر اپنا وزن ولی عہد کے پلڑے میں ڈال دیا۔ اسی دوران وزیر صفدر خان کا کردار خاصا مشکوک اور متضاد رہا، جس کی وجہ سے صورتحال کئی مرتبہ خطرناک حد تک قریب پہنچ گئی۔
میدان کے لال قلعہ کا واقعہ شاید اس بحران کا سب سے سنجیدہ مرحلہ تھا، جہاں ذرا سی لغزش ریاست کو کھلی جنگ کی طرف دھکیل سکتی تھی۔ مگر شاہ جہاں خان نے سخت اور فوری فیصلے کر کے نہ صرف اپنی عمل داری قائم رکھی بلکہ ممکنہ بغاوت کو بھی کچل دیا۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں طاقت کا توازن واضح طور پر ان کے حق میں جھک گیا۔
مارچ کے آغاز تک سیاسی ایجنٹ کی مسلسل مداخلت، جرگہ نظام کا استعمال اور فریقین پر دباؤ بالآخر نتیجہ خیز ثابت ہوا۔ عالم زیب خان کو یہ باور کرا دیا گیا کہ ان کے دعوے کو سرکاری حمایت حاصل نہیں ہو گی، اور اگر وہ ریاست کے مستقبل میں اپنا کردار چاہتے ہیں تو پُرامن تصفیہ ہی واحد راستہ ہے۔ یوں ایک ایسا بحران، جو کسی بھی لمحے خونریزی میں بدل سکتا تھا، وقتی طور پر ٹل گیا۔ خان بہادر شاہ جہاں خان کی حکمرانی مستحکم ہو گئی اور ریاستِ دیر میں نسبتاً سکون کی فضا قائم ہو گئی۔ تاہم یہ تاریخ ہمیں یہ سبق ضرور دیتی ہے کہ قبائلی ریاستوں میں اقتدار کی منتقلی محض خاندانی معاملہ نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پیچھے طاقت، روایت اور سیاست کی ایک پیچیدہ بساط بچھی ہوتی ہے۔
امجدعلی خان ارکائیوز کے فیس بک پوسٹ سے ماخوذ